پاڑہ چنار: آرمی چیف سے ملاقات تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

48

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ہونے والے دھماکوں کے بعد مقامی قبائل کی طرف سے دیا جانے والا احتجاجی دھرنا ساتویں دن بھی جاری ہے۔

عید سے قبل جمعے کو طوری مارکیٹ میں ہونے والے دو دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد شہر میں واقع شہید پارک میں طوری اور بنگش قبائل مسلسل ایک ہفتے سے سراپا احتجاج ہیں۔

’حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارنہ رنگ دیا جا رہا ہے‘

’پاڑہ چنار پاکستان میں ہے یا کسی دوسرے ملک میں؟‘

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کے مختلف شہروں سے قبائل روزانہ چھوٹے بڑے جلوسوں کی شکل میں مارچ کرتے ہوئے شہید پارک پہنچ رہے ہیں اور احتجاج کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔

پاڑہ چنار میں جاری دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں بھی دھرنوں اور اجتجاجی جلوسوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

پاڑہ چنار دھرناپاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے جمعرات کو پاڑہ چنار کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو دس، دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ بطور زرِ تلافی دینے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم مرکزی دھرنے کے شرکا نے زرِ تلافی کی یہ پیشکش مسترد کر دی ہے۔

پاڑہ چنار میں جاری دھرنے میں شامل طوری قبیلے کے رہنما شبیر حسین ساجدی نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی پیشکش رد کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کا احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک برّی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ بالمشافہ قبائل سے ملاقات نہیں کرتے اور ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ پاڑہ چنار شہر میں گزشتہ چار سالوں کے دوران 11 دھماکے ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔’ہر دھماکے کے بعد سکیورٹی انتظامات سخت کیے جاتے ہیں اور تسلی دی جاتی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے لیکن حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے۔’

ان کے مطابق اس معاملے کو آرمی چیف کے علاوہ کوئی حل ہی نہیں کر سکتا اس لیے قبائلی ان سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاڑہ چنار دھرنادھرنے میں مقامی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد بھی شریک ہوئے ہیں

شبیر ساجدی کے بقول فوج کے سربراہ کو غمزدہ خاندانوں سے ملاقات کرنی چاہیے تاکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور انھیں حوصلہ مل سکے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ برّی فوج کے سربراہ نے پاڑہ چنار جائیں گے تاہم ان کا یہ دورہ تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا اور فوجی حکام موسم کی خرابی کو اس کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کرّم ایجنسی کی انتظامیہ نے دھرنے کی کوریج کے لیے جانے والی ذرائع ابلاغ کی ٹیموں کو ایجنسی میں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے۔

پاڑہ چنار کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ میڈیا ٹیموں کو چھپری چیک پوسٹ پر روک کر انھیں واپس کر دیا تاہم انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک اس پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

پاکستان کے پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک بھی پاڑہ چنار جانے میں ناکام رہے ہیں اور جماعت کے ایک وفد کے ہمراہ جب وہ جمعرات کی صبح پاڑہ چنار پہنچے تو سکیورٹی خدشات کے باعث ان کے ہیلی کاپٹر کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دھماکہعید سے قبل جمعے کو طوری مارکیٹ میں ہونے والے دو دھماکوں میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

رحمان ملک نے ٹوئٹر پر اپنے ایک مختصر پیغام میں بتایا کہ جب ان کا ہیلی کاپٹر پاڑہ چنار ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا تو اس دوران پائلٹ کو بتایا گیا کہ ان کے ہیلی کاپٹر پر حملہ ہو سکتا ہے جس پر پائلٹ نے تقریباً نوے کے زاویے سے ہیلی کاپٹر دوبارہ ہوا میں اٹھا لیا۔

انھوں نے کہا کہ بعدازاں انھیں بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایسی اطلاع تھی کہ دہشت گرد ہیلی کاپٹر پر حملہ کر سکتے تھے۔

Comments

comments